ڈانڈیلی:31؍جنوری(ایس اؤ نیوز)ساری دنیا بھارتی دستور کو مانتی ہے تو اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ دستور میں سبھی ذات پات، دھرم والوں کو جینے کا مساوی حق فراہم کیاگیا ہے۔ مگر اس وقت اس ملک کو ہندو راشٹرا بنانےاور دھرم کی بنیاد پر دستوری ترمیم کی کوشش کرنا خطرناک رحجان کی طرف اشارہ کرتا ہے، ان باتوں کا اظہار بنگلورو کے سماجی مفکر اور جہد کار شیوسندر نے کیا۔
وہ یہاں ڈانڈیلی میں دستور بچاؤ آندولن سمیتی کی جانب سے پرانے میونسپالٹی میدان میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف منعقدہ احتجاجی اجلاس میں خطاب کررہے تھے۔ شیوسندر نےکہاکہ مستقبل میں ملک کے دلتوں ، غریبوں، اقلیتوں سے جینےکا حق چھیننے کی سازش کی جارہی ہے،آج ملک کے کروڑوں عوام اپنی شہریت کھونے کے خو ف میں مبتلا ہیں، یہیں پیدا ہوکر پرورش پائے افراد کو مشتبہ شہری بتا کر انہیں الگ کرنےکی سازش رچی جارہی ہے، یہاں سبھی دھرم والے بھائی بھائی کی طرف رہتے آئے ہیں اسی میں خلیج پیدا کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جارہی ہے۔ اگراس ملک میں غیر قانونی پناہ گزین ہیں تو انہیں ضرور نکال باہر کیا جانا چاہئے، لیکن گھر میں سانپ آیا ہے کہہ کر پورے گھر کو آگ لگانا صحیح نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ ان سیاہ قوانین سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ملک کا ہر غریب متاثر ہوگا۔
بنگلورو کے سماجی مفکر ڈاکٹر کے پرکاش نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ باہر سے آنے والے انگریز وں نے یہاں سنگھرش پیدا کیا۔ آج وہی ذہنیت والے ملک میں دوبارہ سنگھرش پیدا کررہے ہیں جس کے نتیجے میں پھر ایک بار ملک میں آزادی کی جدوجہد شروع کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ پریاپٹن کی سماجی جہد کار نجمہ نذیر نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ اس ملک میں 3کروڑ عوام کے پاس زمین نہیں ہے، ایک کروڑ 70لاکھ عوام کو رہنے کی جگہ نہیں ہے،1کروڑ85لاکھ لوگ خانہ بدوش ہیں، 80لاکھ آدی باسی ہیں،پہلے ان غریبوں کو جینےکا سامان مہیا کرنے کا کام ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پہلے 15لاکھ روپئے اکاؤنٹ میں جمع کرنےکی بات کہہ کر دھوکہ دیا گیا، آج پھر شہریت کے نام پر حملہ کیا جارہاہے۔ انہوں نے راست الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی زمام کار سنبھالنے والے نریندر مودی اور امیت شاہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے شہریت قوانین جاری کئے ہیں اور ملک میں ہنگامہ برپا کیا گیا ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ ملک کی تکثریت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
دستور بچاؤ آندولن سمیتی کے صدر ہریش جی نائک نے احتجاجی اجلاس کی صدارت کی۔ سماویش سواگت سمیتی کے اعزازی صدر وی اے کوناپوری ، صدر سید تنگل، سکریٹری چندرکانت نڈگیری ، خازن پربھو داس ، محمد اقبال شیخ، یاسمین کتور، بھٹکل سے عنایت اللہ شاہ بندری، عتیق الرحمن منیری ، منا وہاب، دیویندر مادر وغیرہ ڈائس پر موجود تھے۔ اے ایم جعفر نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔